بنگلورو،10/مارچ(ایس او نیوز) بروہت بنگلورو مہا نگرا پالیکے (بی بی ایم پی) کے اعلیٰ افسران نے ایک حالیہ جائزہ کے نتائج کی جانب اشارہ کرتے ہوئے بتایا ہے کہ بنگلور شہر میں جو 1.8 لاکھ کاروباری ادارے قائم ہیں ان میں سے تقریباً 1.3 لاکھ کاروباری ادارے بغیر تجارتی لائسنس کے ہی اپنی سرگرمیاں چلا رہے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ بنگلورو شہر میں زیادہ تر تجارتی ادارے کافی قدیم ہیں اور وہ تجارتی لائسنس کے بغیر ہی چل رہے ہیں۔
بی بی ایم پی کمشنر بی ایچ انیل کمار کی ایک ہدایت پر عمل کر تے ہوئے بلدی ادارے میں خصوصی منصوبوں کے کمشنر روی سرپور نے تجارتی اداروں کا جائزہ لینے کے لئے ایک دستی تحریک چلائی تھی جس کے دوران، ان حیرت انگیز حقائق کا اظہار ہوا ہے۔حیرت انگیز طور پر پہلے جو سروے انجام دیا گیا تھا اس سے پتہ چلا کہ بنگلورو شہر میں صرف 50,000 ہی تجارتی ادارے پائے جاتے ہیں اس لئے کہ اسی تعداد میں کاروباری اداروں کا بلدیہ میں اندراج ہوا تھا۔ حیرت کا شکار سرپور نے افسران کو دوبارہ براہ راست جائزہ لینے کی ہدایت دی، جس کے بعد اس حقیقت کا اظہار ہوا کہ ہر تین میں سے کاروباری ادارے بلدیہ کی منظوری کے بغیرہ ہی کاروباری سرگرمیاں چلا رہے ہیں۔
بی بی ایم پی کی اس مہم کا آغاز 4 دسمبر 2019 کو ہوا اور 7 فروری 2020 کو یہ کارروائی اختتام کو پہینچی تھی، اس دوران شہر کے کئی علاقوں میں کاروباری اداروں کا دورہ کرکے بی بی ایم پی افسران نے تجارتی لائسنس کی جانچ کی کارروائی انجام دی تھی اور اسی دوران اس بات کا علم ہوا کہ شہر کے اکثر کاروباری ادارے بلدیہ سے منظوری حاصل کئے بغیر ہی قائم کئے گئے ہیں۔موجودہ زونل ضابطوں کو اس کے لئے مورد الزام ٹہراتے ہوئے بی بی ایم پی کمشنر انیل کمار کا کہنا ہے کہ ”یہ بات تو بالکل ہی ناممکن ہے کہ کسی بھی رہائشی علاقہ میں ایک بھی کاروباری ادارہ قائم نہ ہو، اس مسئلہ پر نظر ثانی اور غور فکر کے ذریعہ اسے حل کرنے کی ضرورت ہے“۔